History of Taj Mahal in Urdu – تاج محل کی مختصر تاریخ

History of Taj Mahal in Urdu - تاج محل کی مختصر تاریخ

History of Taj Mahal in Urdu 

Advertisement

تاج محل کی مختصر تاریخ

شاہجہاں پانچواں مغل شہنشاہ تھا۔ وہ ۱۷ ویں صدی میں ہندوستان کا حکمران تھا۔ اس کے دورِ حکومت کے دوران تعمیرِ نو کی ایک لہر جاری رہی جس میں دہلی اور لال قلعہ بھی شامل ہیں۔ اس کی تعمیر کردہ مشہور عمارت تاج محل ہے جو اس نے اپنی چہیتی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ وہ اس کی پسندیدہ ملکہ تھی۔ اس کے بطن سے نو بچوں نے جنم لیا تھا۔ اپنے دورِ حیات کے دوران اس نے کئے ایک سفروں کے دوران شہنشاۃ کی رفاقت سرانجام دی تھی۔ اس کے علاوہ اس کی ذمہ داریوں کی سرانجام دہی میں اس کی معاونت سرانجام دی تھی۔ وہ اپنی رحم دلی اور پارسائی کے لئے مشہور تھی۔

جب ممتاز محل۱۶۶۲ء میں وفات پاگئی تو شاہ جہان نے اس کے مقبرے کو ایک شاہکار بنانے کی ٹھانی۔ اس نے اس مقصد کے لیے دریائے جمنا کے نزدیک جگہ کا انتخاب کیا اور اپنے خوابوں کی تاج محل کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔ تاج محل میں باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں۔ دیواریں پتھروں سے بنائی گئی ہیں ۔ اس میں مینار بھی ہیں اور ایک بڑا داخلی دروازہ ہے ۔ اس کی اونچائی تقریباً ۳۰ میٹر یعنی ۱۰۰ فٹ ہے۔ یہ مقبرہ بنیادی طور پر ایک مربع شکل کا حامل ہے جو ایک اونچے پلیٹ فارم پر کھڑا ہے۔ اس کے مینار ۱۳۷ فٹ اونچائی کے حامل ہیں۔

جب تاج محل کی تعمیر اپنے اختتام کو پہنچی تب شاہ جہان کا یہ ارادہ تھا کہ دریا کے مخالف کنارے پر اپنے لئے بھی سنگِ مرمر کا ایک مقبرہ تعمیر کروائے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کا بیٹا اورنگ زیب اس کے خلاف آمادہ بغاوت ہوگیا اور اس کو آگرے میں نظربند کردیا۔  سن ۱۶۶۶ء میں شاہ جہان موت سے ہمکنار ہوگیا اور تاج محل میں اپنی بیوی ممتاز محل کے قدموں میں دفن ہوا۔

Taj Mahal the most recent but one of the most beautiful wonder of the world, was built by the Fifth Mughal Emperor “Shah Jahan ” Who was ruled in India from 1628 to 1658. In memory of his second wife “Mumtaz Mahal”. Mumtaz was a Muslim Persian Princess. died in child-bed in 1630 while giving birth to their fourteenth chil. Shah Jahan began to build the Taj Mahal (Usually translated “Crown Place”). The following year, It took twenty two years and the work of over twenty thousands workers and craftsmen to finish, and One thousand elephants were needed to carried out the materials from all over India to the tomb’s site in Agra, on the bank of the Yamuna River about 120 miles south of New Delhi. The famous white marbles dome, with its four flanking minarets, rise from a white marble terrace atop a red sandstone base. Inside the dome is the jewel-inlaid cenotaph of the queen. The grave of Shah Jahan was added to it later.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *